متعلقہ ادارے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ روکنے کے اقدامات سے آگاہ کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ

متعلقہ ادارے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ روکنے کے اقدامات سے آگاہ کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر روکنے کے لیے متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے پی ٹی اے، پیمرا اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے جامع رپورٹ طلب کر لی۔

پی ٹی اے نے رپورٹ جمع کروائی کہ سوشل میڈیا آپریٹرز اکثر مواد ہٹانے کی درخواستیں مسترد کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق مواد بلاک کرنے کی شرح 59.1 فیصد رہی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے عوامی مفاد میں دائر درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

عدالت نے کہا کہ وزارت داخلہ کی سر براہی میں وزارت آئی ٹی، پیمرا، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے اور متعلقہ وزارتوں یا محکموں کا اجلاس بلایا جائے۔ متعلقہ ادارے عمل درآمد میں قانونی، انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کی نشاندہی کریں، بتایا جائے ایسی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے یا تجویز کیے؟ نشاندہی کی جائے کہ مختلف اداروں کے درمیان کہاں رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔

متعلقہ ادارے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر روکنے کے اقدامات سے آگاہ کریں۔

پی ٹی اے رپورٹ کو بھی عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان کے دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق مواد بلاک کرنے کی شرح 59.1 فیصد رہی۔ دہشت گردی سے متعلق 79.51، عظمت اسلام کے خلاف مواد کا 76.54 فیصد اور شائستگی و اخلاقیات سے متعلق 98.91 فیصد مواد بلاک کیا گیا۔

فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد بلاک کرنے کی شرح 64.43 فیصد رہی۔ ٹوئٹر پر 48.42، فیس بک پر 78.57 اور انسٹاگرام پر 79.52فیصد، یوٹیوب پر 87.34 اور ٹک ٹاک پر 88.68 فیصد مواد کو بلاک کروایا جا سکا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹریشن کے تقاضے پورے کرنے، شکایات کے ازالے کے لیے مقامی سطح پر افسران مقرر کرنے کا کہا گیا لیکن کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا آپریٹرز مواد ہٹانے کی اکثر درخواستیں اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی بنیاد پر مسترد کر دیتے ہیں۔ 

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ میں سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا تصور دیا گیا ہے۔ اتھارٹی کو غیر قانونی مواد ہٹانے یا بلاک کرنے کے وسیع اختیارات اور ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔  سوال یہ ہے کیا متعلقہ قوانین اور قواعد کے تحت مجاز حکام کو حاصل قانونی اختیارات استعمال کیے جا رہے ہیں یا نہیں؟



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں