جامعہ کراچی: لاء کالجز کے امتحانی نتائج کے اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے تین رکنی کمیٹی قائم

جامعہ کراچی نے قائم مقام وائس چانسلر طفیل جوکھیو کے دور میں الحاق شدہ لاء کالجز کے بی اے، ایل ایل بی سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں، مارکس شیٹس میں تضادات اور اسکروٹنی کے ذریعے طلبہ کو کامیاب قرار دیئے جانے کے اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے دو ریٹائرڈ ججوں اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے پر مشتمل تین رکنی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کمیٹی میں جسٹس (ر) ضیا پرویز، جسٹس (ر) ندیم اختر اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈاکٹر نذیر حسین شامل ہیں۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ 4 نومبر کو دوپہر 12 بجے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں منعقد ہوگا۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے الحاق شدہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج میں اسکروٹنی کے بعد طلبہ کو کامیاب قرار دیئے جانے کے معاملے پر سوالات اٹھائے گئے تھے، کیونکہ جامعہ کے مروجہ امتحانی قواعد کے مطابق اسکروٹنی کے دوران صرف نمبروں کی دوبارہ گنتی، ٹوٹلنگ اور نمبروں کے اندراج کی جانچ کی جاسکتی ہے، جبکہ امتحانی کاپیوں کی ازسرنو جانچ یا دوبارہ مارکنگ کی اجازت نہیں ہے۔
جامعہ کراچی کے مطابق بعض طلبہ نے شکایت کی تھی کہ وہ امتحانات میں کامیاب ہوئے تھے تاہم جاری کردہ مارکس شیٹس میں انہیں ناکام ظاہر کیا گیا، جس کے بعد متاثرہ طلبہ نے اسکروٹنی کی درخواستیں جمع کرائیں اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ بی اے، ایل ایل بی کے امتحانات میں کامیابی کے حق دار ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی اس امر کا جائزہ لے گی کہ امتحانی نتائج کی تیاری، مارکس شیٹس کے اجرا اور اسکروٹنی کے عمل میں قواعد و ضوابط کی پابندی کی گئی یا نہیں اور طلبہ کے نتائج میں سامنے آنے والے تضادات کی اصل وجوہات کیا تھیں۔
کمیٹی متاثرہ طلبہ، امتحانی کاپیاں جانچنے والے اساتذہ اور اسکروٹنی کے بعد جوابی کاپیوں کا جائزہ لینے والے متعلقہ افراد کے بیانات حاصل کرے گی۔ اس کے علاوہ کمیٹی شعبہ امتحانات کا دورہ کرکے ناظم امتحانات اور دیگر متعلقہ افسران سے بھی پوچھ گچھ کرے گی اور امتحانی ریکارڈ، مارکس شیٹس، اسکروٹنی کی درخواستوں اور دیگر دستیاب دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف سننے اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد حقائق پر مبنی رپورٹ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو پیش کرے تاکہ معاملے کو شفاف اور منصفانہ انداز میں نمٹایا جاسکے۔
دوسری جانب جامعہ کراچی نے الحاق شدہ لاء کالجز کے تدریسی اور امتحانی نظام کو منظم بنانے کے لیے جامع تعلیمی کیلنڈر مرتب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس میں سال بھر کی تدریسی سرگرمیوں، امتحانات اور نتائج کے اجرا کا شیڈول شامل ہوگا۔
یہ تعلیمی کیلنڈر منظوری کے لیے رواں ماہ ہونے والے جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
جامعہ کراچی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی امتحانی نظام میں شفافیت، میرٹ اور جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ انتظامیہ کے مطابق آزادانہ تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا مقصد امتحانی نظام پر طلبہ اور متعلقہ فریقین کا اعتماد بحال کرنا اور جہاں ضروری ہو وہاں اصلاحی اقدامات کرنا ہے۔




