پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم کے قتل میں استعمال ہونے والا پستول آن لائن منگوایا گیا
آن لائن ڈلیوری کی سہولت خطرناک اشیاء کے لیے بھی استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس کی تفتیش میں سامنے آیا ہے۔
کپڑے جوتے یا کوئی فوڈ آئٹم ہی نہیں، آن لائن آرڈر کی سہولت اب اس سے آگے بڑھ گئی ہے، اسلام آباد میں اسلحہ کی ہوم ڈیلوری بھی کی جا رہی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن کے قتل میں استعمال ہونے والے پستول بھی ہری پور سے اسلام آباد آن لائن منگوایا گیا تھا، ملزم کے مطابق اس نے اپنے دوست کی شادی میں ہوائی فائرنگ کے لیے پستول منگوایا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق لڑکی کو بچاتے ہوئے گروپ کپٹن عاصم طارق کو جس پسٹل سے قتل کیا گیا، اس کی ہری پور سے آن لائن آرڈر سے ہوم ڈیلیوری کروائی گئی تھی۔
ملزم سعد عباسی کے مطابق اس نے چند ماہ پہلے دوست کی شادی میں ہوائی فائرنگ کے لیے پسٹل آرڈر کیا تھا۔
گروپ کپٹن عاصم طارق کو گولی لگی لیکن وہ اپنی گاڑی میں ہی موجود تھے اس لیے کسی کو علم نہیں ہوا، ملزم فوری فرار ہو گیا، تاہم ڈری سہمی لڑکی نمرہ کے کئی منٹ بعد حواس بحال ہوئے تو اس نے قریب موجود ایک شخص کو حادثے کا بتایا جس نے ون فائیو پر کال کی۔ اسی تاخیر کے باعث ملزم فیض آباد اور پھر لاہور روانہ ہونے میں کامیاب ہوا۔
ملزم سعد عباسی نے پولیس اور عدالت میں دیے گئے بیان میں بتایا کہ اسے غصہ آگیا تھا، اس کا خاندانی معاملہ تھا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم اور نمرہ ایک دوسرے کو صرف 10 روز سے جانتے تھے اور ایک ہی جگہ پر کام کرنے کی وجہ سے سعد عباسی نمرہ کو پک اینڈ ڈراپ دیتا تھا۔




