سمجھتا ہوں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بہتری کی کنجی ہے، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بہتری کی کنجی ہے۔
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ نورین بی بی کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوا، پہلے بھی کہا تھا گھر میں بیٹھے ایسے الفاظ ہرزہ سرائی نہیں ہوتی، اس طرح پرچے درج کرنے سے حالات بہتر نہیں ہوتے۔
انھوں نے کہا کہ جو کچھ نورین نیازی نے کہا ان کا ذاتی بیان ہے اور ان کی وضاحت بھی کی، کشمیر پاکستان کا شہ رگ ہے، یہ لاہور اور کشمور نہیں بنے گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دونوں بڑی پارٹیوں نے بڑی سیاست کی اور حالات کو اس نہج تک لے آئے، کشمیر کے الیکشن کا ہم نے بائیکاٹ کیا تھا تو کہا تھا کہ پہلے ماحول بناؤ۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ فری اینڈ فئیر الیکشن ہوگا تو ملک آگے جائے گا، اس وقت سیاست اور پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنی چاہیے۔ ہم کسی صورت ٹی ٹی پی کو سپورٹ نہیں کریں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ٹی ٹی پی کا بندا جہاں بھی ہے ہم نے اس کو دہشتگرد سمجھا ہے، کوئی دو رائے نہیں کہ دہشتگردی کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا ہم یہ کہتے ہیں کہ پرامن احتجاج کو ڈیل کرنے کا طریقہ الگ ہے، محمود اچکزئی سے ملاقات کریں گے، امید ہے اتحادی جماعتیں 5 اگست کو ساتھ ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ معرکہ حق اللہ کی طرف سے اس قوم کو انعام ملا ہے جس پر قوم کو فخر ہے، مستقبل میں بھی بھارت ایسی مہم جوئی کرے تو اس کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا علیمہ خان اپنے طور پر جہاں جا رہی ہیں ہمارے اہم این ایز، ایم پی ایز ان کو سپورٹ کر رہے ہیں، ہم نے آزاد کشمیر الیکشن کا بائیکاٹ کیا لوگوں کا ٹرن آؤٹ کم رہا۔
انھوں نے کہا کہ صرف 5 سے 7 فیصد ٹرن آؤٹ رہا جو نہ ہونے کے برابر ہے، ہم نے کہا کہ ریاست مخالف اور کشمیر کاز کے خلاف مطالبات کو سپورٹ نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سیاست کا وقت نہیں یہ عوام کی بات سننے کا وقت ہے، کشمیر الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر سیاسی فیصلہ تھا، مہاجرین کی سیٹیں ختم کرنے پر کہا کہ یہ آئینی فریم ورک کا معاملہ ہے۔




