حقائق پہلے سامنے آ جاتے تو شاید قبر کشائی کی ضرورت پیش نہ آتی، والد میر رضا

کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے 29 جولائی کو مردہ حالت میں ملنے والے میر رضا کے والد کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس میں آج کی پیشرفت سے کچھ اطمینان ملا ہے، اگر حقائق پہلے سامنے آ جاتے تو شاید قبر کشائی کی ضرورت پیش نہ آتی۔
میر رضا ہلاکت کیس میں تحقیقاتی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد میڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے والد میر رضا نے کہا کہ کیس اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، امید ہے بیٹے کو انصاف ملے گا، نئی تحقیقاتی ٹیم کو مؤقف سے آگاہ کر دیا ہے۔
والد میر رضا نے کہا کہ تفتیشی حکام نے جو سوالات کیے، ان کے جوابات فراہم کر دیے گئے، تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے نئی ٹیم کو موقع دینا چاہیے، آئندہ تین سے چار دن میں تحقیقات کے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں انتظار ہے نئی تحقیقاتی ٹیم کیا نتائج سامنے لاتی ہے، جو بھی پیش رفت ہوگی، عوام اور میڈیا کے سامنے رکھی جائے گی، انصاف کی فراہمی کے لیے تحقیقات کا منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے۔
خیال رہے کہ 29 جولائی کو گلستان جوہر سے لاش ملنے کے بعد نوجوان تاجر میر رضا کی قبر کشائی کے بعد 8 اگست کو دوسرا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں میر رضا کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد ملنے کا انکشاف ہوا ہے، میر رضا کے پھیپھڑے تیزاب کے باعث شدید متاثر ہوئے، شرٹ، ہاتھوں اور پیروں پر بھی تیزاب کی موجودگی کے اثرات پائے گئے۔
پولیس نے میر رضا کی لاش ملنے کے مقام کے قریب گیسٹ ہاؤس پر تالے لگا دیے، وہاں کام کرنے والے 6 افراد زیر حراست ہیں، تفتیش کے لیے اب تک میر رضا کے دوست اور بزنس پارٹنرز سمیت 21 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، زیر حراست افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق کیس میں دفعہ 365 اور 302 کے بعد دفعہ 201 بھی شامل کردی گئی ہے، دفعہ 201 شواہد چھپانے یا ضائع کرنے سے متعلق شامل کی گئی ہیں۔




