موسمیاتی تبدیلی کے اثرات آبادی، نظامِ صحت پر مرتب ہو رہے ہیں: وزیرِمملکت برائے صحت

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات آبادی، نظامِ صحت پر مرتب ہو رہے ہیں: وزیرِمملکت برائے صحت
وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ—فائل فوٹو
وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ—فائل فوٹو

وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے، ملک کواب شدید مون سون، غیر معمولی بارشوں، سیلاب و دیگر آفات کا سامنا ہے۔

نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی کی تیاریوں اور رسپانس پر کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہماری آبادی اور صحت کے نظام پر مرتب ہو رہے ہیں۔

وزیرِ مملکت برائے صحت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہماری آبادی اور صحت کے نظام پر مرتب ہو رہے ہیں اور ملک کو اب شدید مون سون، غیر معمولی بارشوں، سیلاب اور دیگر آفات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا یہ نیا پیٹرن پاکستان کے مختلف علاقوں میں جڑ پکڑ چکا ہے اور اب صرف ہنگامی صورتِحال پیدا ہونے کے بعد ردِعمل دینا کافی نہیں ہو گا۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ ہمیں تیاری، رسپانس، ریکوری کے حوالے سے جامع اور مستقل نظام وضع کرنا ہو گا، ہرسال بڑی تعداد میں لوگ موسمیاتی آفات کے باعث بے گھر ہو کر نقل مکانی کرتے ہیں جبکہ ملیریا، ڈینگی، ہیضہ، اسہال اور دیگر وبائی و متعدی امراض کاخطرہ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

وزیرِ مملکت برائے صحت نے مزید کہا ہے کہ وزارتِ صحت اور شراکت داروں کو اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز تیار کرنا ہوں گے۔

ڈاکٹر مختار برتھ نے یہ بھی کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ سسٹم کو اس پورے منصوبے کا بنیادی ستون بنانا ہو گا۔



50% LikesVS
50% Dislikes
August 2026
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  

اپنا تبصرہ بھیجیں