اسلام آباد ہائیکورٹ نے قتل کیس میں پولیس تفتیش پر سخت سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قتل کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کی تفتیش پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے ادارے کے تفتیشی نظام کو بہتر بنانے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے کیس آنے پر تفتیش دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے تاہم گزشتہ 14 دنوں میں سامنے آنے والے 4 مقدمات میں تفتیش درست نہیں ہوئی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ پولیس کی انکوائری اور تفتیش ایسی ہوتی ہے کہ عدالت کو ضمانت دینا پڑتی ہے، عدالت نے ریکارڈ چیک کیا تو ان چاروں مقدمات میں تفتیش مِس ہینڈل ہوئی، اسلام آباد میں تفتیشی افسر کی تنخواہ 1 لاکھ روپے جبکہ سندھ میں 40 ہزار روپے ہے، اس کے باوجود سندھ میں پولیس کی تفتیش اچھی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں عدالت نے یہاں کسی سینئر افسر کو نہیں بلایا اور ہمیں بھی اچھا نہیں لگتا کہ کسی سینئر افسر کو عدالت بلایا جائے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے ایس ایس پی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ اپنے ادارے کے تفتیشی نظام کو بہتر کریں، عدالت نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ تفتیش درست نہ ہوئی تو اسلام آباد پولیس کے خلاف لکھا جائے گا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے ایس ایس پی کو ہدایت کی کہ آئی جی اسلام آباد کو بھی پیغام دیں، آئندہ تفتیش خراب ہوئی تو عدالت حکم جاری کرے گی۔




