میر رضا کیس میں تفتیشی ٹیم کا اجلاس، کمیٹی اراکین کو ٹاسک دے دیے گئے

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کیس میں تفتیشی ٹیم کا فیروز آباد تھانے میں اجلاس ختم ہو گیا، جس میں تفتیش سے متعلق اہم فیصلے کیےگئے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کیلئے کمیٹی اراکین کو مختلف ٹاسک دیے گئے، میر رضا کے اہلخانہ کا باضابطہ بیان ریکارڈ کیا جائے گا، حراست میں لیے گئے 21 افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے اراکین جائے وقوعہ کے دورے کیلئے روانہ ہوگئے، جائے وقوعہ سے مزید شواہد حاصل کیے جائیں گے، تحقیقاتی ٹیم کے ہمراہ پرانا تفتیشی افسر بھی جائے گا۔
علاوہ ازیں میر رضا قتل کیس میں نئی تفتیشی ٹیم نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سے رابطہ کر لیا، مقتول کے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لیں۔
نئی تفتیشی ٹیم نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کو 4 خطوط لکھ دیے، خط میں لکھا کہ مقتو ل کی اسمارٹ واچ کا فرانزک بھی کیا جائے، اسمارٹ واچ گذشتہ روز این سی سی آئی اے کے حوالے کی گئی تھی۔
دوسری جانب مقتول کے اہلخانہ نے گھڑی کا فرانزک این سی سی آئی اے کے بجائے لاہور فارنزک لیب سے کروانے کا مطالبہ کردیا۔
اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ کئی روز سے میر رضا کی اسمارٹ واچ سابق سربراہ کمیٹی کے پاس تھی، جس کے باعث اُس میں ٹیمپرنگ کا امکان ہے، فرانزک لاہور سے کروایا جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز 12 اگست کو مقتول میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کو میڈیکولیگل افسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
حکام کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اسامہ کو میڈیکولیگل افسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، ڈاکٹر اسامہ نے میر رضا کے پوسٹ مارٹم میں سنگین غلطیاں کیں، انکوائری میں ڈاکٹر اسامہ افسران کے سامنے پیش ہوں گے۔
خیال رہے کہ گلستان جوہر سے مردہ حالت میں ملنے والے میر رضا کی 8 اگست کو کی گئی قبر کشائی کے بعد کیے گئے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں میر رضا کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کے جسم کے پیچھے کی طرف گولی لگنے کا نشان چھوٹا اور سامنے کی طرف بڑا ہے، ماہرین کے مطابق اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گولی پیچھے کی طرف سے لگی۔
میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے کئی نشانات موجود تھے، دائیں ران پر تقریباً 12سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم پایا گیا، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ملے۔
8 اگست کو میر رضا کی قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے نمونوں کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بالکل مختلف پائی گئی، میر رضا کے جبڑے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر 17سیمپل حاصل کیے گئے، میر رضا علی کے والدین کے بھی سیمپل حاصل کیے گئے جن سے ڈی این اے میچ کیا جائے گا، سیمپلز کو جامعہ کراچی کی فارنزک لیب میں جمع کروایا جائے گا، جسم سے مختلف نمونے حاصل کرنے کے بعد میر رضا کو اسی روز یعنی 8 اگست کو دوبارہ سپردِ خاک کردیا گیا۔
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔




