زمین سے متعلق سپریم کورٹ کا 16 سال پرانا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت نے کالعدم قرار دے دیا

زمین سے متعلق سپریم کورٹ کا 16 سال پرانا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت نے کالعدم قرار دے دیا

زمین کے حصول اور اضافی معاوضے کے کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت نے 16 سال بعد نظرثانی درخواست میں کالعدم قرار دے دیا۔ 

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نظر ثانی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ 

47 صفحات پر مبنی فیصلہ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا جبکہ جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ بینچ میں شامل تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کا صداقت علی خان کیس کا اکثریتی فیصلہ جزوی طور پر درست نہیں۔ زمین کا معاوضہ بغیر احتجاج قبول کرنے والا مالک بعد میں اضافی معاوضے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مقررہ مدت میں ریفرنس دائر نہ کرنے والا زمین مالک بھی اضافی معاوضے کا حق دار نہیں۔ دوسرے زمین مالکان کو عدالت سے زیادہ معاوضہ ملنے کی بنیاد پر غیرفریق مالکان وہی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 زمین کے حصول اور معاوضے کے تعین کا مکمل اور جامع قانونی ضابطہ ہے۔ اضافی معاوضے کا حق حاصل کرنے کیلئے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں دیا گیا قانونی طریقہ اختیار کرنا لازم ہے۔ مقررہ مدت میں قانونی چارہ جوئی نہ کرنے پر لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر کا ایوارڈ حتمی ہوجاتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مکمل انصاف کا اختیار قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کیلئے استعمال نہیں ہوسکتا۔ آرٹیکل 25 کے تحت مساوات کا اصول بھی قانونی مدت اور لازمی شرائط ختم نہیں کرسکتا۔ عدالتیں مساوی انصاف کی بنیاد پر ایسا نیا قانونی حق پیدا نہیں کرسکتیں جو قانون میں موجود نہ ہو۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 2010 کے اکثریتی فیصلے میں غیرفریق زمین مالکان کو بھی اضافی معاوضے کا فائدہ دیا گیا تھا۔ چیئرمین این ایچ اے اور دیگر نے سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔

کلیکٹر لینڈ ایکوزیشن اور دیگر کی جانب سے بھی 2010 کے فیصلے کیخلاف نظرثانی دائر کی گئی تھی۔ وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے 2010 کے فیصلے کیخلاف دونوں نظرثانی درخواستیں منظور کی تھیں۔

فیصلے کے ساتھ ہی وفاقی آئینی عدالت نے تمام متعلقہ سول اپیلیں بھی منظور کرلیں جبکہ اضافی معاوضہ دینے سے متعلق پشاور اور لاہور ہائی کورٹس کے فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے گئے۔ 

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ لینڈ ایکوزیشن کلیکٹرز اور دیگر مجاز حکام کے اصل احکامات بحال کردیے گئے۔ 

جسٹس سید ارشد حسین شاہ کا اضافی نوٹ

فیصلے میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے اضافی نوٹ تحریر کیا جس میں قرار دیا گیا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کے تحت پہلے سے ادا شدہ اضافی معاوضہ واپس نہیں لیا جاسکتا۔

اس میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ عدالتی فیصلے کے تحت نیک نیتی سے وصول کی گئی رقم بعد میں قانونی مؤقف تبدیل ہونے پر واپس نہیں لی جاسکتی۔

فراڈ، غلط بیانی یا غیرقانونی طریقہ اختیار کیے بغیر حاصل کردہ اضافی معاوضے کی ریکوری نہیں ہوسکتی۔ نظرثانی درخواستوں میں پہلے سے ادا شدہ اضافی معاوضے کی واپسی کی استدعا بھی نہیں کی گئی تھی۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں