سندھ طاس محض ایک معاہدہ نہیں، قانونی فریم ورک ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ قانونی فریم ورک ہے، سندھ طاس معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
پاکستانی سفارتخانے واشنگٹن میں سندھ طاس معاہدے پر سیمنار سے خطاب اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم عالمی قوانین کے تحت ہی ممکن ہے۔
انھوں نے کہا کہ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے، معاہدے کے تحت دریائے راوی، بیاس اور ستلج کا پانی بھارت بغیر پابندی کے استعمال کرسکتا ہے، اسی طرح پاکستان دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی بغیر کسی پابندی کے استعمال کرسکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے معاملے پر انڈس کمیشن بھی فعال ہے، پانی کے معاملے پر اختلاف کے حل کے لیے معاہدے کے تحت میکنزم موجود ہے۔
انھوں نے کہا بھارت نے جان بوجھ کر سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کیا، پاکستان کے لیے آبی تحفظ معاشی، غذائی اور قومی سلامتی سے جڑا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کا حامی ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔




