کراچی: اردو یونیورسٹی کے انتظامی بحران پر سینیٹ قائمہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس
وفاقی اردو یونیورسٹی کے طویل انتظامی بحران پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت کمیٹی کی کنوینر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر اشرف علی جتوئی، سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر سرمد علی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر، وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شینواری اور دیگر نے شرکت کی جبکہ سینیٹر ڈاکٹر خالدہ عتیب نے آن لائن شرکت کی۔
اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے طویل عرصے سے جاری انتظامی بحران، مالی مشکلات اور یونیورسٹی کے مختلف انتظامی اداروں کے امور پر تفصیلی بحث ہوئی۔
سینیٹر ڈاکٹر خالدہ عتیب نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کی گرانٹ میں 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور پہلی گرانٹ میں 50 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز بھی فراہم کیے گئے، اس کے باوجود وائس چانسلر اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں، ہاؤس سیلنگ اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن ادا نہیں کر رہے۔
کمیٹی کی کنوینر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ یونیورسٹی کو خصوصی گرانٹ فراہم کرنے سے قبل اس کے اندرونی نظام کو درست کرنا ہوگا، اگر سینڈیکیٹ کا کورم مکمل نہیں تو اس کے اجلاس میں انتہائی اہم نوعیت کے فیصلے کیسے کیے جاسکتے ہیں؟
انہوں نے ہدایت کی کہ نامکمل سینڈیکیٹ کی منظوری سے کیے گئے تمام فیصلوں پر فوری طور پر عمل درآمد روک دیا جائے اور وائس چانسلر سینڈیکیٹ کو مکمل کریں۔
سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ یونیورسٹی کی املاک کو نجی استعمال میں لانے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر کے دور میں کیمپس کے اندر پولیس اسٹیشن قائم ہوا جبکہ وائس چانسلر یونیورسٹی میں موجود نہیں ہوتے، بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ وائس چانسلر یونیورسٹی کے انتظامی مسائل میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
سینیٹر سید مسرور احسن نے وائس چانسلر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نامکمل سینڈیکیٹ سے من مانے فیصلے حاصل کیے جارہے ہیں اور اسلام آباد کیمپس کو مالی خودمختاری دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف وائس چانسلر فنڈز کی کمی کی شکایت کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سلیکشن بورڈ کا انعقاد کرکے نئی تقرریاں کی جارہی ہیں، ان کے مطابق نامکمل سینڈیکیٹ کے ذریعے یونیورسٹی میں فرد واحد کا اقتدار اور لاقانونیت قائم کردی گئی ہے۔
انجمن ترقی اردو کے صدر واجد جواد نے کمیٹی کو بتایا کہ سینڈیکیٹ اور سینیٹ کے اجلاسوں کی روداد درست طور پر ریکارڈ نہیں کی جاتی، وائس چانسلر اپنی مرضی سے کارروائی تیار کروا لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رکن سینڈیکیٹ اور سینیٹ کی حیثیت سے متعدد مرتبہ روداد درست کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم وائس چانسلر نے توجہ نہیں دی۔
ان کے مطابق سینڈیکیٹ کی کارروائی یکطرفہ نوعیت کی ہوتی ہے جبکہ وائس چانسلر کراچی کیمپس کو مناسب وقت نہیں دیتے اور اسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلانا چاہتے ہیں۔
کمیٹی کی کنوینر سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کا اجلاس کراچی میں اس لیے منعقد کیا گیا ہے تاکہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے متاثرہ اساتذہ اور ملازمین کو بھی اجلاس میں شامل کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات کمیٹی کے لیے پریشان کن ضرور ہیں لیکن یہ نئے نہیں ہیں، اگر یونیورسٹی کے اہم اداروں کو قانون کے مطابق چلایا جائے تو اس کے بیشتر مسائل انہی اداروں میں حل ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ سینڈیکیٹ کا کورم فوری طور پر مکمل کرکے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔ جب تک سینڈیکیٹ مکمل نہیں کیا جاتا، وائس چانسلر کے دور میں کیے گئے تمام اقدامات پر عمل درآمد روک دیا جائے۔
انہوں نے ہراسانی کے معاملات کو سنگین قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کے تمام اجلاسوں کی باقاعدہ ویڈیو ریکارڈنگ اور اسے محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی بحران کا جائزہ لینے کے لیے سینیٹ کی سب کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
سینیٹر سید مسرور احسن سب کمیٹی کے کنوینر ہوں گے جبکہ سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر اشرف علی جتوئی، سینیٹر ڈاکٹر خالدہ عتیب اور سینیٹر سرمد علی اس کے ارکان ہوں گے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی نمائندگی بھی سب کمیٹی میں شامل کی جائے گی۔
کمیٹی کی کنوینر نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر کو ہدایت کی کہ وفاقی اردو یونیورسٹی سے متعلق کمیشن کی تحقیقاتی کمیٹیوں کی رپورٹس فوری طور پر قائمہ کمیٹی اور سب کمیٹی میں جمع کرائی جائیں۔کمیٹی کا اگلا اجلاس 15 ستمبر کو اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا ہے۔




