ریاست اور خیبرپختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں دہشت گردی ہے، خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ریاست اور خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔
اسلام آباد سے جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا ہمیشہ کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے ایک نرم گوشہ رہا، بانی نے وزیراعظم بننے کے بعد کہا دہشت گردوں سےبات چیت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست اور خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، ریاست کی پالیسی دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور ان کاقلع قمع ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ 2 سال میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے تقریباً 6200 واقعات ہوئے،1 ہزار 200 شہادتیں ہوئیں، 37 حملوں میں افغان شہری ملوث تھے، رواں سال 14 خودکش حملے ہوچکے، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی 17 ہزار اسامیاں آج بھی خالی ہیں، ضم شدہ اضلاع میں سی ٹی ڈی کا نظام تقریباً غیر فعال ہے، سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے چوکیوں کی تعمیر نو اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے 42 ارب روپے مانگے، خیبر پختونخوا حکومت نے صرف 1 اعشاریہ 2 ارب روپے جاری کیے، کاغذات میں 42 ارب روپے خرچ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا حقیقت میں یہ رقم ہڑپ کرلی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں یہ ڈالر کی جنگ ہے، بتائیں گزشتہ چند برسوں میں امریکا نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سیکیورٹی کے لیے کتنے ارب ڈالر فراہم کیے؟
وزیر دفاع نے کہا کہ کیا کوہاٹ اور پشاور میں ہونے والے ڈرون حملے اور پاکستانی سکیورٹی پوسٹوں پر ٹی ٹی اے کے حملے حقیقت نہیں ہیں؟ کچھ حقائق دیکھنا ضروری ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی مجموعی نفری تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار ہے، جس میں 13 ہزار نفری وی آئی پی پروٹو کول پر تعینات ہے جبکہ سی ٹی ڈی کی مجموی نفری 3 ہزار 300 کے قریب ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سی ٹی ڈی میں صرف 25 مستقل ہیں جبکہ باقی کنٹریکٹ ملازمین ہیں، بتایا جائے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپ کی اپنی پالیسی کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی سوچ دہشت گردوں سے مذاکرات کے تصور سے زیادہ ہم آہنگ رہی، بتایا جائے کہ آپ نے دہشت گردی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کتنے اپیکس کمیٹی کتنے اجلاس کیے؟




