مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے کردار پر پاکستان کو سلام پیش کرتا ہوں: انتونیو گوتریس

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے کردار پر پاکستان کو سلام پیش کرتا ہوں۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ہمراہ نیوز بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ پاکستان نے خلیج میں بھی بات چیت اور سفارت کاری کو آگے بڑھایا، افغانستان سے ہونے والے حملوں پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوامِ متحدہ کے منشور کو آگے بڑھانے، امن کے قیام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات و سفارت کاری پر یقین رکھا ہے، پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان دیرینہ اور قریبی تعلق ہے، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کے عظیم دوست ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور مذاکرات کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے، ثالثی کی کوششوں کو تسلیم کرنے پر انتونیو گوتریس کے شکر گزار ہیں، پاکستان تعاون کو تصادم، مذاکرات کو تنازع اور طاقت کے استعمال پر پُرامن حل کو ترجیح دیتا ہے۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مستقبل کے لیے معاہدہ عالمی تعاون اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کا اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے، اقوامِ متحدہ میں اصلاحات کا مقصد ادارے کو زیادہ مؤثر، فعال اور موزوں بنانا ہونا چاہیے، ترقی پذیر ممالک کی آواز اور خدشات کو مرکزی حیثیت ملنی چاہیے، پاکستان مضبوط، مؤثر، جامع اور نمائندہ کثیرالجہتی نظام کے لیے کام جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا مسئلہ کشمیر پر مستقل مؤقف قابلِ تحسین ہے، تنازع کشمیر کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے فریم ورک اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد ضروری ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے نیوز بریفنگ کے دوران بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر روکنے کے اقدام پر بھی گوتریس کو تشویش سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بند اور سندھ طاس معاہدے کی ذمے داریاں پوری کرے۔
انہوں نے کہا کہ افغان سر زمین سے پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گرد حملوں پر گہری تشویش ہے، جس سے نمٹنے میں اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے، پاکستان مشکل عالمی حالات میں اقوامِ متحدہ کو مضبوط بنانے کے لیے گوتریس کی قیادت اور کردار کو سراہتا ہے۔
دوسری جانب انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے کردار پر پاکستان کو سلام پیش کرتا ہوں، پاکستان دوبارہ آ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور بطور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل میں اپنی مدت کے آخری مہینوں میں پاکستان آیا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بطور اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین بھی میں طویل عرصے سے پاکستان کے ساتھ وابستہ رہا ہوں اور 2 دہائیوں سے مختلف ذمے داریوں میں پاکستان کو یکجہتی اور حل کے منبع کے طور پر دیکھا ہے، مشکل حالات میں بھی پاکستان نے ہمدردی اور ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور عالمی معاملات میں ایک اہم اور ضروری نقطۂ نظر پیش کیا۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے، پاکستانی برادریوں نے تحفظ اور سلامتی کے متلاشی افغانوں کے ساتھ دستیاب وسائل بانٹے۔




