وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر ایم کیو ایم وفد کو اعتماد میں لیا

وزیراعظم شہباز شریف سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت ایم کیو ایم کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے وفد کو خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اعتماد میں لیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے بہترین مفاد میں مشکل ترین فیصلہ کرنا پڑا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح ہمیں یہ انتہائی قدم نہ اٹھانا پڑے، ہم نے کھلے دل سے مذاکرات کیے لیکن دوسری جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔
انھوں نے کہا کہ کے پی میں دہشت گردانہ حملوں میں شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، صوبائی حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے میں ناکام رہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ لانگ مارچ ملک کی بہتر ہوتی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش تھی۔
اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر ایم کیوایم کے وفد نے وزیراعظم کو خیبر پختونخوا سے متعلق حکومتی فیصلوں پر اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
ایم کیو ایم وفد میں وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹر خالدہ اطیب، ڈاکٹر فاروق ستار، عبد العلیم خان، سید وسیم حسین، آسیہ اسحاق اور جاوید حنیف خان شامل تھے۔
معین عامر پیرزادہ، محمد اقبال خان، حسان صابر، صادق افتخار، ارشد عبداللہ وہرہ، سید حفیظ الدین، امین الحق، خواجہ اظہارالحسن، احمد سلیم صدیقی، فرحان چشتی، نکہت شکیل خان، سبین غوری، رانا انصر، صوفیہ سعید اور سنجے پروانی بھی وفد میں شامل تھے۔




