11 اکتوبر کو 58 ٹو بی کو زندہ کیا گیا، بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر علی خان(فائل فوٹو)۔
بیرسٹر گوہر علی خان(فائل فوٹو)۔

چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ آج قومی اسمبلی اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت مانگی، جمہوریت پر شب خون مارا گیا لیکن بات کرنے کی اجازت نہ ملی۔ 

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج اپوزیشن نے ایوان کے باہر بھرپور احتجاج کیا ہے، ہم اسمبلی فلور پر گورنر راج کو مسترد کرتے رہیں گے۔ 

انھوں نے کہا کہ 11 اکتوبر کو 58 ٹو بی کو زندہ کیا گیا ہے، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت ہے۔ 

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور ہمارے 10 ایم پی ایز زیر حراست ہیں، دہشت گرد اس ملک کے دشمن ہیں، دہشت گردی کا بہانہ کر کے غیر قانونی کام ہوا۔ 

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم اپنی آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے۔  

بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے 2000 افراد زیر حراست ہیں، انکا کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کے منتخب نمائندے چھپے ہوئے ہیں، آج کئی اراکین گرفتاری کی وجہ سے اسمبلی نہ آسکے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں