وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس، وزیراعظم کے ایکسیس ٹو فنانس پلان پر عملدرآمد کا جائزہ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس تک رسائی سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کے ایکسیس ٹو فنانس پلان 28-2026 پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق کمیٹی کو ایس ایم ای، زراعت اور ہاؤسنگ فنانس کیلئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس کے دوران ترجیحی شعبوں کیلئے قرضوں تک رسائی بہتر بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ہول سیل فنانسنگ کیلئے مجوزہ فریم ورک کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ ہول سیل فنانسنگ فریم ورک بینکوں سے رائے لینے کے بعد حتمی کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران ایس ایم ای، زرعی اور ہاؤسنگ فنانس کیلئے ڈیش بورڈز اور پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ڈیش بورڈز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایت جاری کردی۔
وزارت خزانہ کے مطابق زرعی شعبے کیلئے فنانسنگ بڑھانے اور کاشتکاروں تک قرضوں کی رسائی میں توسیع پر غور کیا گیا جبکہ کمیٹی میں کراپ لون انشورنس اسکیم کو ایریا ییلڈ انشورنس کی جانب بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے کاشتکاروں کیلئے فنانسنگ اور ادائیگی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت جولائی تک 34.27 ارب کے قرضے جاری کیے گئے۔ بینکوں کی جانب سے 220 ارب 68 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے منظور کیے گئے جو تقسیم کیلئے تیار ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق کمیٹی اجلاس میں کم لاگت ہاؤسنگ فنانس مزید آسان بنانے کیلئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے زمین اور جائیداد کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے پر بھی زور دیا۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت 1200 سے زائد الیکٹرک بائیکس صارفین کو فراہم کردی گئیں۔
اس موقع پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے پٹرولیم درآمدات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ الیکٹرک گاڑیوں سے صارفین کے طویل مدتی اخراجات میں کمی آئے گی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
کمیٹی نے ایکسیس ٹو فنانس پلان پر عملدرآمد کیلئے اداروں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنانے پر زور دیا جبکہ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور بینکوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ہدایت کی۔




