اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر کی برطرفی معطل کردی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے کیس میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر شہزاد علی خان کی برطرفی کے احکامات پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے پروفیسر شہزاد علی خان کی درخواست پر عبوری حکم جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے، عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات غور طلب ہیں۔
عدالت نے صدرِ پاکستان کے اس فیصلے کا نفاذ بھی معطل کر دیا جس میں پروفیسر شہزاد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے برطرفی کی سزا برقرار رکھی گئی تھی۔
عدالت نے وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی کے اس حکم پر بھی عملدرآمد روک دیا جس کے تحت پروفیسر شہزاد کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنائی گئی تھی۔
وفاقی محتسب نے پروفیسر شہزاد علی خان کی جانب سے دوسرے فریق کے خلاف دائر شکایت مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف دائر جوابی شکایت منظور کی اور انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنائی تھی۔
پروفیسر شہزاد نے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف صدرِ پاکستان سے رجوع کیا تھا تاہم ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے برطرفی کی سزا برقرار رکھی گئی جس کے بعد انہوں نے دونوں فیصلوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
عدالت میں پروفیسر شہزاد کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے ابتدا میں دوسرے فریق کے خلاف بلیک میلنگ، دھمکی آمیز رویے، مالی بے ضابطگیوں اور دیگر الزامات پر وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف جوابی شکایت دائر کی گئی۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صدر پاکستان نے اپنے فیصلے میں خود مشاہدہ کیا تھا کہ یہ جنسی ہراسانی کا معاملہ نہیں ہے اور جنسی ہراسانی کے کسی مخصوص واقعے کی بھی نشاندہی نہیں کی گئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے باوجود انتقامی کارروائی، کام کی جگہ پر ناموافق ماحول پیدا کرنے اور صنفی بنیاد پر ہراسانی سمیت دیگر بنیادوں پر برطرفی کی سزا برقرار رکھی گئی جبکہ پروفیسر شہزاد کو ان بنیادوں پر مؤثر دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کے میرٹس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا بلکہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کو غور طلب قرار دیتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔
عبوری عدالتی ریلیف کے بعد پروفیسر شہزاد علی خان نے کہا کہ وہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر کے عہدے پر واپس آگئے ہیں اور تحریری عدالتی حکم ملنے کے بعد دفتر جائیں گے۔
واضح رہے کہ یہ کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔




