حکومت تحفظات دور کرے، تحفظات دور نہ کیے تو تعاون نہیں ہوگا، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے تو وہ ن لیگ کے ساتھ تعاون کے موڈ میں نہیں ہیں، آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کو الیکشن میں ہرایا گیا، اگر مسلم لیگ ن کو اتنا متنازع الیکشن چاہیے تھا تو انہیں مبارک ہو۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میری پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ن لیگ کیساتھ تعاون نہیں ہو سکتا، اگر آپ ہمارے تحفظات دور نہیں کرتے تو ہم تعاون نہیں کریں گے، صرف قومی ایشو پر کچھ ہوا تو ہم تعاون کرسکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق عوام کا جو فیصلہ ہوگا پیپلز پارٹی ساتھ کھڑی ہوگی، جہاں اتفاقِ رائے موجود ہو وہاں فیصلہ اتفاقِ رائے سے کیا جائے، جہاں اتفاقِ رائے موجود نہیں، کوئی سیاسی جماعت گفتگو کرنا چاہتی ہے تو گفتگو کرے، وہ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں مل کر بات کریں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے سامنے کسی ترمیم کا کوئی نکتہ سامنے نہیں آیا، 26ویں ترمیم کا میں نے بتایا اور 27ویں ترمیم کا میں نے حوالہ دیا، اگر کوئی نکتہ سامنے آتا ہے کہ ہم اس پر بات کریں گے، ہم زور زبردستی سے نہ کل مانے ہیں نہ کبھی مانیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں سے متعلق پیپلز پارٹی کا موقف واضح رہا ہے، میں کیسے کہہ دوں کہ پیپلز پارٹی صوبوں کی مخالف ہے، جب تک کوئی اسمبلی مخالفت نہیں کرتی میں کیسے اعتراض کر سکتا ہوں، جہاں تک سندھ کی بات ہے آپ گن لیں کتنی قراردادیں پاس ہوئی ہیں وہاں، کیا حکومت کو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان کی سہولتکاری کی؟ حکومت تو ہر جگہ کہتی ہے کہ پیپلزپارٹی رکاوٹیں ڈالتی ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حق ملکیت پر الیکشن لڑ کر آیا ہوں، جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ایک موقف رہا ہے، اگر کوئی اتفاق ہے تو میں پنجاب کے خلاف نہیں جا سکتا، پارلیمنٹ کو بیرونی خطرے اپنی جگہ اندر بھی خطرات ہیں، پارلیمان کو اندر سے ایسے خطرہ ہے کہ اس میں فعال کردار نہیں ادا کیا جا رہا، پارلیمنٹ کی کمیٹیوں سمیت ایوان میں مثبت کردار نہیں کیا جارہا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر الیکشن انتہائی حساس ہے اور بھارت سے جنگ کشمیر سے شروع ہوئی، کشمیر کا الیکشن غیر متنازع ہوتا تو اچھا ہوتا، کشمیر میں پیپلز پارٹی کو الیکشن میں ہرایا گیا، میرپور سمیت کوٹلی میں پیپلز پارٹی ارکان کو ہرایا گیا، ہم نے کشمیر انتخابات میں اپنے اعتراضات بتائے تھے، سیکیورٹی کا کہا تھا، مظفرآباد میں امیدوار پر حملہ ہوا، وفاقی حکومت کا لشکر وہاں تھا، الیکشن کے میرپور فیز میں ہمارے دو کارکنوں کو شہید کیا گیا۔
چیئرمین پی پی پی نے مزید کہا کہ دھاندلی کرکے پونچھ میں پیپلز پارٹی حکومت کو شکست دی گئی، کشمیر میں الیکشن کے 6 فیز بنا دیے، اب بھی الیکشن کا عمل مکمل نہ ہوا، اگر مسلم لیگ ن کو اتنا متنازع الیکشن چاہیے تھا تو انہیں مبارک ہو، ہمارے تحفظات کا کوئی حل نہیں نکلتا تو ہم ان سے تعاون کرنے کے حق میں نہیں، ن لیگ نے اعتراضات سے متعلق ہماری پارٹی یا پارلیمانی کمیٹی سے رابطے کی کوشش بھی نہیں کی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میں چاہتا ہوں بانی پی ٹی آئی کا علاج ہو جائے وہ ٹھیک ہوجائیں۔




