بدین میں نوجوان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت نے بھی سوالات کو جنم دے دیا
سندھ پولیس کے ہاتھوں بدین میں نوجوان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت نے بھی سوالات کو جنم دے دیا۔
مبینہ پولیس مقابلہ بدین کے علاقے کڈھن میں 26 جولائی کو ہوا۔ رورل ہیلتھ سینٹر کڈھن کے ڈاکٹر نے پوسٹمارٹم رپورٹ 30 جولائی کو ریلیز کی۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ لاش ملنے کے 24 گھنٹے میں رپورٹ دینا لازمی ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق محرم دل کو پہلی گولی گردن، دوسری پیٹھ کے بائیں کندھے پر لگی جو سینے کے قریب سے نکلی، تیسری گولی دائیں پسلیوں کے نیچے لگی جو آر پار ہوئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق محرم دل کو چوتھی گولی دائیں بازو کو لگ کر دائیں بغل کے نیچے سے نکلی، پانچویں گولی بائیں کندھے کے پچھلے حصے میں داخل ہو کر آر پار ہوئی، چھٹی گولی دائیں ران کے اوپر لگی، ساتویں بھی دائیں ران پر لگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محرم دل کو گردن پر غذائی نالی، گردنی مہرے، شہ رگ اور آواز کے تار کو نقصان پہنچایا، گولیوں کی وجہ سے بائیں پھیپھڑا، دل اور اس کی بڑی رگوں کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب اسی رورل ہیلتھ سینٹر کڈھن کے سینئر میڈیکل آفیسر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پولیس مقابلے میں زخمی پولیس اہلکاروں میں سے اہلکار عاشق علی کو پیٹ میں گولی لگی، جو ایک جانب سے داخل ہو کر دوسری جانب سے نکل گئی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوسرے زخمی پولیس اہلکار ثاقب علی کو پیٹ کے دائیں جانب گولی لگی۔
محرم دل کی ہلاکت کے واقعے پر ورثا نے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیے جانے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جبکہ مقدمے کے اندراج کے لیے والدہ کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت 25 اگست کو ہوگی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ 26جولائی کو منشیات فروش محرم دل پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا مقابلے میں دو اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔




