میر رضا کیس: جبران ناصر کا وزیر اعلیٰ سندھ سے تفتیش کی نگرانی کا مطالبہ
کراچی میں 29 جولائی کو گلستان جوہر سے مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے تفتیش کی نگرانی کرنے کا مطالبہ کردیا۔
جبران ناصر نے وزیر اعلیٰ سندھ کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس کی موجودہ ٹیم کی ناکامی پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
اپنے خط میں جبران ناصر نے کہا کہ نئی تفتیشی ٹیم کی تفتیش بھی قتل کی بجائے خودکشی کے سابقہ مؤقف کے گرد گھوم رہی ہے، سابق تفتیشی ٹیم کی کوتاہی اور تفتیشی ریکارڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی ایسٹ اور دیگر پولیس افسران کے خلاف تحقیقات کی جائیں، افسران کو تحقیقات مکمل ہونے تک حساس عہدوں سے ہٹایا اور معطل کیا جائے۔
خط میں کہا گیا کہ پولیس کی بروقت مدد نہ ملنے پر اہل خانہ نے خود گاڑی کا سراغ لگایا، ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعد شواہد پولیس کے حوالے کرنے کے باوجود کئی روز تک شواہد لیب نہیں بھیجے گئے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں خودکشی کی کوئی رائے نہ ہونے کے باوجود سابقہ تفتیشی ٹیم نے خود کشی کا موقف اختیار کیا، پولیس کی جانب سے مختلف سی سی ٹی وی ویڈیوز میڈیا کو جاری کی گئیں، نئی ٹیم بھی مقتول کے قرض اور کاروباری معاملے سے متعلق سوالات کر رہی ہے۔
جبران ناصر نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ خود تفتیش کی نگرانی کریں، سابقہ تفتیشی ٹیم کے کردار کی محکمانہ انکوائری کروائی جائے، مقتول کے اہل خانہ کسی فرد کو نشانہ نہیں بنانا چاہتے، اہل خانہ اغوا، تشدد اور قتل کے اصل حقائق سامنے لانا چاہتے ہیں، اہل خانہ تفتیش میں رکاوٹ یا شواہد متاثر کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔
میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں کی گئی تھی۔
پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد کے سامنے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد، دونوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
بعد ازاں عدالتی حکم کے بعد میر رضا کی 8 اگست کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسی دن دوبارہ تدفین کردی گئی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔




