آگ لگی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں آؤ گھر تقسیم کریں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ آگ ہو اور صوبے بنیں، مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ جو بیانیہ سرکار کی طرف سے دیا جا رہا ہے وہ غلط ہے، نئے صوبوں کی باتیں کی جا رہی ہیں، کس امید پر اس طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں، آگ لگی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں آؤ گھر تقسیم کریں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آگ ہو اور صوبے بنیں۔
اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فیصلہ کیا ہے اپوزیشن کی طرف سے اپنا موقف قوم تک پہنچائیں گے، وزیراعظم کہتے ہیں آئیے بات کریں تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، یہاں ایک ہاتھ ہے جو قوم کو تھپڑ مار رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا اتفاق ہوگیا، یہ اپنی اپنی پارٹی کے پاس جائیں گے پھر ہمارا اگلا اجلاس ہوگا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے، حکومت صرف تسلیاں دے رہی ہے، ہم گزشتہ 20 سال سے تسلیاں سن رے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حالات میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے معیشت پر اثر پڑ رہا ہے، کب تک خاموش رہا جائے، کب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہیں۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تجربہ کار لوگوں کی تعداد موجود ہے، جس تھپڑ کا ذکر مولانا نے کیا وہ ہم سب کے چہروں پر پڑ رہا ہے، یہ رویہ ملک کیلئے مہلک ہے، ہمیں پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
اس سے قبل اسلام آباد میں سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان کی قیام گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی، علامہ راجا ناصرعباس، اسد قیصر، جنید اکبر اور سلمان اکرم راجا شریک تھے۔
اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری، کامران مرتضٰی، مولانا عبدالواسع اور انجینیر ضیاء الرحمان بھی شریک تھے ۔




