اگلے وزیراعلیٰ کا تو پتہ نہیں، لیکن سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے، شیر افضل مروت
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ اگلے وزیراعلیٰ کا تو پتہ نہیں کون ہو گا لیکن سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔
پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ 9 مئی واقعات کے بعد میرے خلاف متعدد ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو نالائق لا افسران کی وجہ سے نقصان ہوا۔ ان افسران کی وجہ سے سہیل آفریدی کے خلاف چالان جمع کیا گیا۔ اگلے وزیراعلیٰ کا تو پتہ نہیں کون ہو گا لیکن سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ آئین میں ایمرجنسی کیلئے کوئی مخصوص میعاد موجود نہیں، گورنر راج شاید 2 ماہ بعد ختم ہو جائے لیکن 12 اضلاع میں ایمرجنسی رہے گی۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ جج اور عدلیہ آزاد نہیں، جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی ہوگئے۔ عدلیہ ایک قابل اور محنتی جج سے محروم ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف تو نئے صوبوں کی حامی ہے، جنوبی اضلاع کا اپنا صوبہ بنتا ہے تو ہمارا اپنا وزیراعلیٰ، اپنی اسمبلی اور ہائیکورٹ ہوگی۔ پرانے نظام نے تو کچھ نہیں دیا، نئے نظام میں کوئی نقصان اگر بتا سکتا ہے تو آگاہ کر دے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ کون سا لانگ مارچ تھا، دو ہزار لوگ نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے محنت نہیں کی، لانگ مارچ اس طرح تو نہیں ہوتے، رسائی اور علاج کی سہولیات دینا کوئی قومی ایشو نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بتایا تھا ان کی کوئی نیت یا ارادہ نہیں تھا مارچ کرنےکا، اہر بیٹھے یوٹیوبرز نے پارٹی کو اس مقام پر پہنچایا، یہ اس کی جان نکال کر ہی چھوڑیں گے۔




