اے ڈی سی آر گوجرانولہ کی ٹریک سوٹ میں پیشی پر عدالت برہم

لاہور ہائیکورٹ نے اے ڈی سی آر گوجرانولہ طیب رزاق کے ٹریک سوٹ میں پیش ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں شہری کی 13 ایکڑ اراضی ایکوائر کرنے کا فیصلہ کالعدم کرنے کی کاپی فراہم کرنے کی سماعت ہوئی۔
جسٹس انوار حسین نے گوجرانولہ کے رہائشی محمد خان کی درخواست پر سماعت کی۔
اے ڈی سی آر گوجرانولہ طیب رزاق کے ٹریک سوٹ میں پیش ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت عالیہ کے حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے اے ڈی سی آر کے رویے پر معذرت کی۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے کہا کہ عدالت کی عزت مقدم ہے۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ سرکاری افسر کا عدالت میں رویہ انتہائی قابل افسوس ہے، سرکاری افسران پبلک سرونٹ ہوتے ہیں، عدالت میں ان افسران کا رویہ یہ ہے تو عوام کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہوں گے۔
عدالت عالیہ نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ آپ ہائر اتھارٹیز کو اس افسر کے رویے سے آگاہ کریں اور عدالت میں اس بارے میں رپورٹ بھی پیش کریں۔
عدالت عالیہ نے کہا کہ آفیسر کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے ڈریس کوڈ کا ہی پتہ نہیں، آپ اتھارٹیز کو بتا دیں کہ افسران ایسے رویے کے ساتھ پیش نہ ہوں۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا ایک پڑھے لکھے آدمی کو ایسا رویہ زیب نہیں دیتا، آفیسر اپنے رویے پر غیر مشروط معافی کا طلب گار ہے۔
جس پر عدالت عالیہ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی آفیسر کو معافی دینے کی استدعا منظور کرلی۔ عدالت نے درخواست پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔




