برسلز: یوم آزادی قومی تہوار ہی نہیں، آزادی کی عظیم نعمت پر شکرانے کا دن ہے، رحیم قریشی

برسلز: یوم آزادی قومی تہوار ہی نہیں، آزادی کی عظیم نعمت پر شکرانے کا دن ہے، رحیم قریشی

پاکستان کے 79 ویں یوم آزادی کے موقع سفارت خانہ پاکستان برسلز کے زیراہتمام پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ قومی ترانے کی دھن پر سفیر پاکستان رحیم حیات قریشی نے پاکستان کا قومی پرچم لہرایا۔

پرچم کشائی کی اس تقریب میں پاکستانی مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شرکائے تقریب کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے محض ایک قومی تہوار نہیں۔ یہ آزادی کی عظیم نعمت پر شکر ادا کرنے، اس کے حصول کے لیے دی گئی بے مثال قربانیوں کو یاد کرنے، اور وطن عزیز کے ساتھ اپنی وفاداری کے عہد کی تجدید کرنے کا دن ہے۔

آج وہ تاریخی دن ہے جب قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت افروز قیادت اور برصغیر کے مسلمانوں کی طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان ایک آزاد و خود مختار ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر رونما ہوا۔

ہم تحریکِ پاکستان کے تمام رہنماؤں، کارکنوں، بزرگوں اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

انہوں نے کہا کہ بیلجیئم اور لکسمبرگ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے اپنی محنت، دیانت، قابلیت اور مثبت کردار سے پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا ہے۔

برسلز: یوم آزادی قومی تہوار ہی نہیں، آزادی کی عظیم نعمت پر شکرانے کا دن ہے، رحیم قریشی

انھوں نے کہا کہ تعلیم، بزنس ، سائنس و ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرتے ہوئے آپ درحقیقت پاکستان اور یورپ کے درمیان ایک مؤثر پل ہیں۔

رحیم حیات قریشی نے مزید کہاکہ عالمی برادری میں ایک ذمہ دار، خودمختار اور فعال ریاست کی حیثیت سے پیچیدہ اور تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، کشیدگی میں کمی اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی حمایت کی ہے۔

اسی طرح عالمی سطح پر تنازعات کے حل اور کشیدگی میں کمی کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ آج ہمیں اس امر پر بھی اطمینان ہے کہ پاکستان مشکل علاقائی اور عالمی حالات کے باوجود اپنی سیاسی بصیرت، سفارتی صلاحیت، دفاعی قوت اور قومی استقامت کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امن کے لیے ایک تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے اس مبارک موقع پر ہمیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی بربریت کا شکار اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جو کئی دہائیوں سے اپنے جائز حقِ خودارادیت اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے برسر پیکار ہیں۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی اصولی، سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے اور ہم اقوام متحدہ سمیت تمام متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر ان کی آواز کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ 

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ سلامت، مضبوط، متحد اور خوشحال رکھے۔ 

قبل ازیں حافظ عثمان کی تلاوت کے ساتھ شروع ہونے والی اس تقریب میں صدر مملکت ، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ یہ پیغامات بالترتیب اکنامک منسٹر عمر حمید، پولیٹیکل کونسلر محمد عادل اور حدیقہ قریشی نے پیش کیے۔ 

بعد ازاں کشمیر پیس فورم کے صدر نصیر چوہدری، پیپلزپارٹی یورپ کے معروف رہنما ملک محمد اجمل اور احمد محمود جویہ کو پاکستانی کمیونٹی کیلئے خدمات کے اعتراف میں سفارت خانے کی جانب سے تعریفی اسناد دی گئیں۔

تقریب میں نظامت کے فرائض ہیڈ آف چانسری محسن سیف اللہ نے انجام دیے۔ جبکہ آخر میں اجتماعی دعا کے ساتھ یوم آزادی کا کیک بھی کاٹا گیا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں