برطانیہ نے شبیر احمد کی واپسی کے لیے دباؤ بڑھایا تو دو طرفہ تعاون متاثر ہو سکتا ہے، پاکستان

پاکستان نے روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کو برطانیہ سے پاکستان واپس بھیجنے کے مطالبے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے پاکستان پر انہیں قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تو غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی سمیت دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور منظم جرائم کے خلاف تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد نے گزشتہ ایک سال کے دوران برطانیہ کے ساتھ ’’اعلیٰ ترین معیار‘‘ کا تعاون کرتے ہوئے تقریباً 1,500 مسترد شدہ پناہ کے درخواست گزاروں، ویزا مدت سے زائد قیام کرنے والوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو پاکستان واپس لینے میں تعاون کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شبیر احمد کے معاملے پر برطانوی حکومت کا مسلسل دباؤ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر تعاون کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ احمد نے پاکستانی شہریت ترک کر دی ہے، اپنی زندگی کا بیشتر حصہ برطانیہ میں گزارا اور ان کے جرائم بھی برطانیہ میں ہوئے، اس لیے انہیں پاکستان واپس بھیجنے کی ذمہ داری اسلام آباد پر عائد نہیں ہوتی۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ شبیر احمد ’’بنیادی طور پر برطانیہ کا اندرونی مسئلہ‘‘ ہے اور برطانیہ کو اس معاملے کو اپنے دائرۂ اختیار میں حل کرنا چاہیے۔ حکام نے برطانیہ کی جانب سے ممکنہ پابندیوں، جن میں پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں اور پاکستان کے لیے غیر ملکی امداد روکنے کی تجاویز شامل ہیں، پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک معاملے کو کئی دہائیوں پر محیط پاک برطانیہ تعاون پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت شبیر احمد کو ملک بدر کرنے کے لیے امیگریشن قوانین میں تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے۔ احمد کو 30 بچوں سے زیادتی کے جرائم میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ گزشتہ ماہ اپنی سزا کے 14 سال مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہوا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق 2025-26 کے دوران برطانیہ سے پاکستان واپس بھیجے جانے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد 24 فیصد اضافے کے ساتھ 1,158 سے بڑھ کر 1,437 ہو گئی۔ مسترد شدہ پناہ کے درخواست گزاروں کی واپسی میں بھی 74 فیصد اضافہ ہوا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ امیگریشن، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم شبیر احمد کے معاملے پر دباؤ کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔




