افغانستان میں TTP کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، پاکستان کو دہشت گردی کا خطرہ برقرار: اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مسلسل حمایت کے باعث پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے تقریباً 2 ہزار جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو پاکستانی سرحد سے افغانستان کے اندر منتقل کیا ہے۔
طالبان سربراہ ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ نے ٹی ٹی پی قیادت کو پاکستان پر حملے روکنے کی وارننگ بھی دی تاہم یہ اقدامات ٹی ٹی پی کے انفرااسٹرکچر کے خاتمے کے بجائے اسے محدود رکھنے کی کوشش دکھائی دیتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنی تنظیمی ساخت میں توسیع کرتے ہوئے بلوچستان اور وسطی علاقوں کے علاوہ کشمیر اور گلگت کے لیے بھی نئی ڈویژنز قائم کی ہیں، مارچ میں ٹی ٹی پی نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے پاکستان کو لاحق دہشت گردی کا خطرہ بدستور برقرار ہے، داعش خراسان نے پاکستان افغانستان سرحدی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں تربیتی نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے جبکہ گروپ کے پاس ڈرونز، نائٹ ویژن آلات اور تھرمل امیجرز سمیت جدید سازوسامان بھی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے بھی پہلی بار ٹی ٹی پی کی پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی کھلی حمایت کی ہے، افغانستان میں القاعدہ کے تربیت کاروں نے ٹی ٹی پی کے ساتھ بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کو بھی تربیت دی ہے۔




