ہم نے غلطی کی ایک ایماندار افسر کو ڈھونڈ لیا، وکیل جبران ناصر

ہم نے غلطی کی ایک ایماندار افسر کو ڈھونڈ لیا، وکیل جبران ناصر
فوٹو: اسکرین گریب
فوٹو: اسکرین گریب

کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان میر رضا کے والد رضا میر کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ انہیں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے کوئی امید نہيں ہے، پولیس کے افسران اپنا کام کريں گے، لیکن حکومت دہری پالیسی نہ اپنائے۔

میر رضا ہلاکت کیس میں تحقیقاتی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد میڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ ہم نے غلطی کی کہ ایک ایماندار افسر کو ڈھونڈ لیا، جس نے 3 تاریخ کو آپ کو خط لکھ کر بتایا کہ اس کے ماتحت سے کیا غلطیاں ہوئی ہیں۔

جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کیس میں حقائق سامنے لانے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، میڈیکل بورڈ عدالت کے حکم پر قائم کیا گیا، گزشتہ 11 دنوں میں جس سرکاری افسر نے اپنا کام کیا، تنقید اسی پر ہو رہی ہے،  ڈاکٹر سمیہ کو تنقید کا نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔

وکیل جبران ناصر نے کہا کہ  سندھ حکومت نے اپنی غلطی کی اصلاح کی اور تحقیقات کا رخ درست کیا، چند افراد نے جلد بازی میں کیس کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی، حکومت نہیں بلکہ غلط مؤقف اختیار کرنے والے افراد ناکام ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقائق سامنے آنے کے بعد قتل کے شواہد کو تسلیم کیا گیا، شروع سے کیس کو خودکشی قرار دینے والوں کا مؤقف غلط ثابت ہوا، تحقیقات کو درست سمت میں لانے والے افسران کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

اس موقع پر میر رضا کے والد نے کہا کہ اگر یہ سب کچھ پہلے ہوجاتا تو قبر کشائی کی ضرورت نہیں پڑتی، ہم سے جو پوچھا گیا ہم نے بتا دیا ہے، ہمارے بچے کو انصاف ملے۔

اس سے پہلے جبران ناصر نے سندھ حکومت کو خط لکھ کر کر کہا تھا کہ والدین جوڈيشل انکوائری نہیں چاہتے، عدلیہ پر مکمل بھروسا ہے، حکومت جوڈیشل کمیشن انکوائری کےنام پر کیس کو متنازع بنانا چاہتی ہے، قانون کے مطابق تفتیش کا اختیار پولیس کے پاس ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار نے بعد میں کہا کہ والدین کی درخواست پر فی الحال عدالتی کمیشن کے قیام کا فیصلہ مؤخر کیا ہے۔

خیال رہے کہ  29 جولائی کو  گلستان جوہر سے لاش ملنے کے بعد نوجوان تاجر میر رضا کی قبر کشائی کے بعد  8 اگست کو دوسرا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں میر رضا کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد ملنے کا انکشاف ہوا ہے، میر رضا کے پھیپھڑے تیزاب کے باعث شدید متاثر ہوئے، شرٹ، ہاتھوں اور پیروں پر بھی تیزاب کی موجودگی کے اثرات پائےگئے۔

پولیس نے میر رضا کی لاش ملنے کے مقام کے قریب گیسٹ ہاؤس پر تالے لگا دیے، وہاں کام کرنے والے 6 افراد زیر حراست ہیں، تفتیش کے لیے اب تک میر رضا کے دوست اور بزنس پارٹنرز سمیت 21 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، زیر حراست افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ڈی آئی جی کرائم برانچ عامر فاروقی کی سربراہی میں میر رضا کیس کیلئے قائم پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

حکام کے مطابق کیس میں دفعہ 365 اور 302 کے بعد دفعہ 201 بھی شامل کردی گئی ہے، دفعہ 201 شواہد چھپانے یا ضائع کرنے سے متعلق شامل کی گئی ہیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes
August 2026
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  

اپنا تبصرہ بھیجیں