میر رضا کی لاش کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سے تقریباً 25 دن بعد پہلی تفتیش

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی لاش کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ سے سندھ پولیس نے تقریباً 25 دن بعد پہلی تفتیش کی۔
ڈاکٹر اسامہ نے میر رضا کا قتل اپنی رپورٹ میں خودکشی قرار دیا تھا۔
ڈاکٹر اسامہ کی تیار کردہ رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے جیو نیوز کے پروگرام “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں کی تھیں۔
ابتدا میں سندھ پولیس نے میڈیکولیگل افسر ڈاکٹر اسامہ کی رپورٹ کا دفاع کیا تھا۔ پوسٹ مارٹم میں سنگین غلطیوں پر ڈاکٹر اسامہ کو عہدے سے ہٹایا جاچکا ہے۔ اور اب تقریباً 25 دن بعد بالآخر سندھ پولیس نے ڈاکٹر اسامہ کو شامل تفتیش کرلیا۔ ان سے پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔
میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کچھ آگیا تو دو دن میں پولیس قاتل کو سامنے لے آئے گی، جبران ناصر
میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں کی گئی تھی۔
پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد کے سامنے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد، دونوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
بعد ازاں عدالتی حکم کے بعد میر رضا کی 8 اگست کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسی دن دوبارہ تدفین کردی گئی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔




