میر رضا کیس کو قتل کی تحقیقات کے طور پر آگے بڑھایا جائے، سندھ ہائیکورٹ بار
سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے میر رضا کے قتل پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میر رضا کی موت کی شفاف، غیر جانبدار اور شواہد پر مبنی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اسپیشل میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے بعد مقدمے میں دفعہ 302 شامل کی گئی ہے اور کیس کو قتل کی تحقیقات کے طور پر آگے بڑھایا جائے، کیس میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی، گرفتاری اور قانونی کارروائی کی جائے۔
ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی سی آئی اے، ایس ایس پی ایسٹ سمیت دیگر افسران کو تحقیقات سے الگ کیا جائے، ضرورت پڑنے پر متعلقہ افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔
سندھ ہائی کورٹ بار نے کہا کہ شواہد چھپانے، ضائع کرنے یا غلط طریقے سے سنبھالنے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، شواہد کی بنیاد پر دفعات 201، 218 پی پی سی کے تحت کارروائی پر غور کیا جائے۔
کیس میں تمام میڈیکو لیگل، فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کو بھی محفوظ بنایا جائے، نئی تحقیقاتی ٹیم کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے، تحقیقات پر سیاسی یا بیرونی اثر و رسوخ برداشت نہیں کیا جائے گا، کیس کو شواہد اور قانون کی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ بار کا مزید کہنا تھا کہ میر رضا علی خان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں، اہلخانہ کو منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا حق حاصل ہے، انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے پرامن آواز اٹھانے کے حق کی حمایت کرتے ہیں، پرامن اظہار یا احتجاج کو غیر قانونی طریقے سے دبانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں، جرم ثابت ہونے پر ذمہ داروں کیخلاف عہدے اور حیثیت سے قطع نظر کارروائی کی جائے۔




