چینی کی درآمد، برآمد کا نقصان پاکستانیوں کو بھرنا پڑ رہا ہے، مفتاح اسماعیل
مرکزی رہنما عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ چینی کی درآمد اور برآمد کا سارا نقصان پاکستانی شہریوں کو بھرنا پڑ رہا ہے۔
ایک بیان میں مفتاح اسماعیل نے حکومت کی شوگر پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پچھلے سال حکومت نے ساڑھے 7 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے ایک کلو چینی 50 روپے مہنگی ہوئی، اس کے بعد حکومت نے ٹریڈنگ کارپوریشن سے کہہ کر 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرلی۔
اے پی پی کے رہنما نے مزید کہا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے یہ چینی پاکستانی منڈی میں چینی کی قیمت سے 40 ڈالر فی ٹن مہنگی درآمد کی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے صنعت کاروں، چینی اسٹورز اور آڑھتیوں پر دباؤ ڈال کر یہ چینی مارکیٹ پرائس سے زیادہ قیمت پر بیچنے کی کوشش کی، اس کے باوجود ٹی سی پی اپنے ذخائر کی ساری چینی نہ بیچ سکی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس لیے اب وہ یہی درآمد شدہ چینی ایک بار پھر برآمد کرکے بین الاقوامی منڈی میں بیچنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کا سارا نقصان پاکستانی شہریوں کو بھرنا پڑ رہا ہے۔




