نیویارک میں بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس جاری ہے

نیویارک میں بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس جاری ہے

نیویارک میں پاکستان کے سفارتی مشن کے سربراہ و چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، بھارت نے بغیر تحقیقات اور ثبوت کے پہلگام واقعے کا الزام لگایا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے 6 طیارے مار گرائے، مذاکرات ہی امن کا واحد راستہ ہیں، ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے، میری والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی دہشت گردوں نے شہید کیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھارت کو تحقیقات کی پیشکش کی، عالمی برادری بھارت کی جارحیت کا نوٹس لے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے، بھارت نے جارحیت کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، دہشت گردی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر آ گئی تھیں، ہم نے دیکھا حالیہ کشیدگی کتنی تیزی سے آگے بڑھی، دنیا سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی کی لائف لائن کاٹ دی جائے تو کیا ردِعمل ہو گا؟ صورتِ حال بگڑنے سے پہلے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مودی کو دیکھیں تو لگتا ہے نیتن یاہو کی کاپی ہے، بھارت نے جب پاکستان پر حملہ کیا تو اس نے اسرائیلی ڈرون کا بھی استعمال کیا، خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا ہے، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بنے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اور وزیرِ خارجہ سے سیز فائر میں اہم کردار ادا کیا، بھارت نے حملے میں مساجد کو نشانہ بنایا، پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن شرائط پر نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مودی کو دیکھیں تو لگتا ہے نیتن یاہو کی کاپی ہے، بھارت نے جب پاکستان پر حملہ کیا تو اس نے اسرائیلی ڈرون کا بھی استعمال کیا، خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اور وزیرِ خارجہ نے سیز فائر میں اہم کردار ادا کیا، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بنے، ہمارے پاس بھارت کے خلاف شکایات کی لمبی فہرست ہے۔

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بھارت اب نیا اصول خطے میں نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت نے حملے میں مساجد کو نشانہ بنایا، پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن شرائط پر نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی میں ملوث ہے، تنازع کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، بھارت مسلسل پاکستان مخالف بیانات دے رہا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت اسرائیل کی طرح عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، پاکستان امن کا خواہاں ہے، بات چیت کے لیے تیار ہے، بھارتی عوام بھی پاکستان کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں، بھارت کی جانب سے پانی روکنا بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے نہیں دیں گے، بھارت کے صرف 6 طیارے گرانا بھی پاکستان کی طرف سے تحمل کا مظاہرہ تھا، پاکستان نے عالمی میڈیا کے سامنے تمام حقائق رکھے، بھارت دنیا سے حقائق چھپاتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ذمے داری کا تقاضہ ہے کہ بھارت مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی طرف آئے، پاکستان کا پانی روک دیا جائے تو ہم خاموش کیسے بیٹھیں؟ ہم چاہتے تو بھارت کے 20 طیارے گرا سکتے تھے مگر ہم نے 6 گرائے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں